Gulshan e Pakistan (must read it)

gulshan pe mere ek muddat se jo qaabiz chor luteray hen,
kuch jaagiru k maalik hen kch sanat kaar,wadairey hen.,

kia saada log watan k hen,khud lut tay hen khud pit tay hen,
phr un se mohabbat krty hen dil jin k hawis k dairey hen,

har dehshat gard bana leader her chor uchakka ha member,
laila e wazarat k khaatir har darwaazey k phairay hen,

din achay hon tou saathi hen din aaen buray tou baaghi hen,
ye apnay mafaad k haami hen ye saarey fasli bataeiry hen,

jungle ka sama hai shehero mai,her koocha gali sannata hai,
kia mere mulk ki kismat mai andhere he andhere hen??

mere yar sharafat dolat hai,har kaam mai agay aurat hai,
adil ye qurb e qayamat hai mloom jo aaj sawery hai.

gulshan pe mere ek muddat se jo qaabiz chor lutery  hen..!

Advertisements

نصیحت

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا.. چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. ” اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ ناجانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے گی.. اس نے چڑیا کی بات مانتے ھوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. ” چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت تو یہ ھے کہ” جو بات کبھی نہیں ھو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. ” یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..” اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. ” اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چڑیا نے جو اسے اسطرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ھو سکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹانک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ھے..؟ میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ھو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.. ” یہ کہتے ھوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اور ھوا میں پرواز کر گئی.. وہ شخص وھیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ھوۓ سوچوں میں کھو گیا..!! وہ لوگ خوش نصیب ھوتے ھیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ھو.. ھم اکثر خود کو عقلِ کل سمجھتے ھوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ھمارا ھی ھوتا ھے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ھوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ‘ ھم نے سن لیا.. بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ھونے والے انمول اثاثے ھیں.. جو یقیننا” ھمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ھو سکتے ھیں اگر ھم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!

Why How & What. . .

Currently reading a book by Maududi on “Come Let us Change the World” According to Maududi owing to the fact that life on earth is meant to be a period of trial and tribulation, there is no accountability here in the ultimate sense. Whatever ones received in this life is not a reward for his/her good deeds but add to further trials and tribulations. Calamities and disasters that occurs are not the punishment for any evil deeds, but of a result of physical laws (Allah ordained) which man has no control. The time for accountability, the sifting of deeds and the passing of judgements there upon shall be after this life and is named hereafter. The only way of knowing which actions and deeds will produce good resulte during the judgement day is through the revelation (wahyu – i.e.the Quraan). – Tajdid wa Ihya-e-din, February 1940 pp 29-30.

Maa

Yeh Kamyabian Izat Yeh Naam Tum Sey Hai

 

Ay Meri Maa Mera Saraa Muqam Tum Say Hai,

Khuda Ney Jo Bhi Diya Hai Mukaam Tum Sey Hai,

 

Tumharey Dum Sey Hain Mairey Lahu Main Khiltey Gulab,

Mairey Wajood Ka Sara Nizaam Tum Sey Hai,

 

Jahan Jahan Hai Mairi Dushumni Sabab Main Houn,

Jahan Jahan Hai Maira Ahtaraam Tum Sey Hai.

 

Yeh Kamyabian Izat Yeh Naam Tum Sey Hai Ay Meri Maa Mera Saraa Muqam Tum Say Hai.